بھٹکل:12؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز)مرڈیشور کا صحت عامہ کا مرکز ماولی علاقے کےلئے حقیقی اسپتال کا درجہ رکھتاہے، متعلقہ صحت عامہ مرکز کو ترقی دے کر مکمل اسپتال کا درجہ دینے کےلئے پچھلے کئی دہوں سےیہاں کے عوام مطالبہ کرتے رہے ہیں ، بس یہ ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے اس کی تعبیر نکلتی نظر نہیں آرہی ہے۔
بھٹکل تعلقہ اسپتال سے 15کلومیٹر فاصلہ پر واقع ماولی علاقے میں کل 5گرام پنچایت ہیں اور 25ہزار سے زائد آبادی ہے۔ صحت عامہ کے مرکز میں صرف ایک ڈاکٹر خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ حادثات، سانپ کاٹنے ، زچگی وغیرہ کےلئے 15 کلو میٹر کافاصلہ طئے کرتےہوئے سرکاری اسپتال جانا ہے یا پھر پرائیویٹ اسپتال میں داخل ہوناعوام کی مجبوری ہے۔ اس سے قبل مرڈیشور کے صحت عامہ مرکز میں فوری زچگی سمیت 24x7خدمات انجام دی جاتی تھیں، لیکن کچھ ماہ پہلے ان خدمات کو روک دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے کے مریضوں کو کافی پریشانی ہونے کی بات عوام کہہ رہےہیں۔
سیاحتی مرکز مرڈیشور کو روزانہ ہزاروں سیاح آتے رہتےہیں۔ سمندر کے کنارے سیر و تفریح کے لئے پہنچنے والے سیاحوں میں سے کئی ایک پانی میں ڈوب کر بیمار ہونے کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں،ایسے میں فوری ضروری علاج کےلئے اسپتال میں ڈاکٹر اور سہولیات نہیں ہونے کا عوام الزام عائد کررہے ہیں۔
وزیر کے وعدے کا نفاذ ہو:رکن اسمبلی سنیل نائک کی کوششوں سے اس وقت کے وزیر برائےصحت عامہ شری راملو نے اسپتال کو ترقی دے کر 100بیڈ اسپتال کا درجہ دینے کی زبانی منظوری دئیے تھے، جو ابھی تک روبہ عمل نہیں لایاگیا ہے۔ دیہی علاقوں کے عوام علاج کے لئے دور کا سفر کرتے ہوئے بھٹکل پہنچنا مجبوری ہے تو یہ کافی مشکل بھی ہے۔ متعلقہ افسران اسپتال کو ترقی دینے کےمتعلق اقدام کئے جانے کا ماولی گرام پنچایت کے سابق ممبر سنتوش نائک نے مطالبہ کیا ہے۔